مریم نواز کے والد جب وزیراعظم تھے تو اسوقت بھی لوگ اٹھا لئے جاتے تھے جبکہ مریم بی بی وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھی ہوتی تھیں لیکن وہ کبھی یوں مظلوموں کا درد سننے انکے پاس اس طرح آلتی پالتی مار کر نہیں بیٹھیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ حکمران اشرافیہ کو مظلوم صرف اقتدار سے باہر یاد آتے ہیں
ایک وقت آئے گا جب یہ کافر لوگ بڑی تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔
(اے پیغمبرﷺ!) انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو کہ یہ خوب کھالیں، مزے اُڑالیں، اور خیالی اُمیدیں انہیں غفلت میں ڈالے رکھیں، کیونکہ عنقریب اُنہیں پتہ چل جائے گا کہ حقیقت کیا تھی ۔
﴿سورۃ الحجر، ۲-۳﴾
اور منیر نیازی انور مسعود صاحب سے کہنے لگے:
"انور! قران مجید کی آیتوں میں اتنا حُسن ہے کہ وہ بےضمیر لوگوں سے پردہ کر لیتی ہیں"
واہ!! سبحان اللہ!
بے شک ایسا ہی ہے!!
بڑے شاعروں کی نہ صرف شاعری، بلکہ گفتگو میں بھی معرفت و معنویت بدرجہ کمال ہوا کرتی ہے!!
Article 63-A prescibes that anyone who intentionally acts against the directions of his party in the matter of no confidence vote violates the constitution & commits an illegality. True interpretation of Article 63A is that such votes given in violation of party instructions 1/3
امریکہ سے اچھی خبر آئے گی۔ 1799 میں ٹھیک یہی دن تھے۔ ٹیپو کی قبر کھودی جا رہی تھی۔ تاریکی میں بجلی چمکی تو انگریز میجر نے میر غلام علی لنگڑے کا چہرہ نم پایا۔ بولا: آپ نے نہیں' اپنے صاحب کو ہم نے مار ڈالا۔ میجر نے کہا: Don't worry Mir sahib' you'll be paid well.
Drug case life imprisonment convict Hanif Abbasi appointed as special assistant to PM with status of federal minister timesofislamabad.com/27-Apr-2022/dr…
حکومت نے اعلان کیا تھا کہ یکم مئی سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائیگا، آج 14 مئی ہے اور اِسوقت بھی اسلام آباد کے کچھ علاقوں میں 4 گھنٹوں سے بجلی نہیں ہے حالانکہ نہ کوئی آندھی، نہ بارش نہ طوفان۔ اگر اسلام آباد کی یہ حالت ہے تو دیہاتوں، قصبوں اور پسماندہ علاقوں کا حال کیا ہو گا
اسٹیبلشمنٹ کو سوچنا چاہئے آخر کیوں ہر وزیراعظم جو ان کی مدد سے اقتدار میں آیا وہ آخر میں ان کے خلاف ہو گیا، وہ صحافی جو اسٹیبلشمنٹ کے چہتے تھے وہی ان کو اج آنکھیں دیکھا رہے ہیں، جہادی جن کو اسٹیبلشمنٹ نے تربیت دی آخر میں وہ ریاست کے خلاف ہو گئے! اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے!
اگلا اعلان یہ ہونا چاہئیے کہ پانچ سال کیلئے دفاعی بجٹ (مختلف شہروں میں زرخیز زمینیں واگزار کرکے بنائے جانے والے) ڈی ایچ اےز اور دیگر فوجی کاروباری اداروں کی آمدن سے پورا کیا جائے گا واضح رہے کہ ان میں بہت سوں کو ٹیکس سے استثناء بھی حاصل ہے
انڈین سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ:-
الیکشن سے پہلے تمام سیاسی پارٹیاں جس کو بھی ٹکٹ دیں اس ٹکٹ ہولڈر کا اگر کرمنل ریکارڈ ہےتو وہ تمام ریکارڈ اخبار، TV، فیس بک اور ٹویٹر پر ڈالا جاۓ۔
اور یہ وجہ بھی بتائی جاۓ کہ ایک شریف آدمی کی بجاۓ ایک مجرم کو ٹکٹ کیوں دیا گیا۔
بہترین عوامی فیصلہ۔