Shakargarh Zafarwal (@skg_zwl) 's Twitter Profile
Shakargarh Zafarwal

@skg_zwl

Please follow Facebook page facebook.com/shakargarhpk?m…

ID: 3407115597

calendar_today07-08-2015 12:39:48

59,59K Tweet

14,14K Takipçi

1,1K Takip Edilen

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

جس کسی نے بھی2018 میں آر ٹی ایس بیٹھا کر عمران خان کو وزیراعظم بنایا تھا اس نے بہت اچھا کام کیا تھا کیونکہ 2019 تک ہی عمران خان نے اپنے حمایتیوں کا جنون واڑ کر رکھ دیا تھا۔ پھر 2022 میں چند مہینے صبر نہ کر کے اس کے خلاف عدم اعتماد کا کر مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی گئی۔

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

کون بچائے گا پاکستان عمران خان عمران خان یوتھیا صاحب کیسے؟ پنکی پیرنی کے جادو سے؟ جعلی ڈگری والے مراد سعید کے ساتھ؟ اوٹ پٹانگ زرتاج گل کے ساتھ؟ ایکس ٹک ٹاک فیس بک اور یوٹیوب پر AI کی پوسٹوں کے ساتھ یا اڈیالہ میں عمران خان معاشیات کی ڈگری لے رہا ہے غیرت اور شرم کے دشمن

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

پاکستان کی جیت پاکستان کی عزت ہر محب وطن پاکستانی کی جیت اور عزت ہے۔ پاکستان کی عزت افزائی سے اس وقت نتن یاہو اور مودی کو تکلیف ہے یا اور کسی کو بھی ہے تو وہ کسی صورت بھی محب وطن پاکستانی نہیں ہو سکتا۔ دانیال عزیز چوہدری کی مکمل گفتگو کا لنک 👇 facebook.com/share/v/1CbjxH…

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

دانیال عزیز چوہدری نے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے ان باتوں پر روشنی ڈالی ہے جن کے بارے میں ڈالر خور یوٹیوبر اور اقتدار کے بھوکے گدھ نما بہت سے سیاستدان ناواقف ہیں۔ پوری گفتگو اس لنک میں ملاحظہ فرمائیں facebook.com/share/v/1CbjxH…

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

کسی بھی سیاسی جماعت کا مطلب ہرگز پاکستان نہیں ہوتا ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت سے اختلاف رکھنے کا حق اور تنقید کا حق ہر کسی کو حاصل ہے۔ مگر پاکستان کے خلاف بات کرنا صرف ان ذہنی بیماروں کا کام ہے جو اپنی کم عقلی بلکہ جہالت کی بنیاد پر جھوٹے اور غلیظ پراپیگنڈہ کا شکار ہیں

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

ٹریفک وارڈنز نظام غالباً 6-2005 میں لایا گیا تھا۔ جس میں گریجویٹ نوجوان بھرتی کئے گئے تھے۔ اس پہلے سفید شرٹ نیلی پینٹ اور سفید بیلٹ والی ٹریفک پولیس ہوتی تھی اور اب لگ بھگ 20 سال بعد پھر وہی پرانی وردی ٹریفک وارڈنز کو دے دی گئی ہے۔ اس کو بھی ایک کارنامہ کہا گیا۔

ٹریفک وارڈنز نظام غالباً 6-2005 میں لایا گیا تھا۔ جس میں گریجویٹ نوجوان بھرتی کئے گئے تھے۔ 
اس پہلے سفید شرٹ نیلی پینٹ اور سفید بیلٹ والی ٹریفک پولیس ہوتی تھی اور اب لگ بھگ 20 سال بعد پھر وہی پرانی وردی ٹریفک وارڈنز کو دے دی گئی ہے۔ اس کو بھی ایک کارنامہ کہا گیا۔
𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

موجودہ رنگ و ڈیزائن والی وردی میں ملبوس ٹریفک پولیس 20 سال پہلے جس کارکردگی کی حامل تھی اور ٹریفک وارڈنز کی وردی کے ساتھ ساتھ موجودہ ٹریفک پولیس کو بھی 20 سال پہلے جیسی ٹریفک پولیس بنا دیا گیا ہے۔ بڑے شہروں میں جہاں ٹریفک سگنل بھی نہیں ہوتے مثلا لاہور کینال روڈ وہاں+

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

مختلف مقامات پر ناکے لگا کر اچھی بھلی چلتی ہوئی ٹریفک کو یہ جام کر دیتے ہیں تو چھوٹے شہروں میں یہ شہر کو چھوڑ کر باہر مین روڈ پر ناکے لگا کر کھڑے ہو جاتے ہیں جہاں ٹریفک جام کا دور دور تک کوئی خدشہ ہی نہیں ہوتا ہے۔ الغرض پنجاب کی ترقی میں یہ بھی ایک اضافہ ہے کہ پنجاب میں

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

ٹریفک پولیس کو سفر کرنے والے شہریوں کے لئے اتنے ہی خوف کی علامت بنا دیا گیا ہے جتنا 20 سال پہلے تھا۔ جس خوف اور ناگواری سے شہریوں کو بچانے کے لئے محکمہ پولیس کے ہی کچھ قابل اور ایماندار افسروں نے ٹریفک وارڈنز کا نظام بنایا تھا۔ جن پڑھے لکھے بااخلاق ٹریفک وارڈنز کے لانے پر عوام+

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

معاف کیجئے گا مگر سچ یہی ہے کہ ڈھیروں قرضوں اور بے تحاشا مہنگائی کے اضافے کے ساتھ نیا اور پرانا پاکستان کے سیاسیوں کی مہربانیوں سے ہم سب پاکستانی 2011 میں واپس آ چکے ہیں۔ جہاں وہی کھیل بجلی گئی بجلی آئی شروع ہو چکا ہے۔ تالیاں بجانے والے بجاتے رہیں۔

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

کمال یہ دیکھیں کہ 2013 سے پہلے جو لوڈ شیڈنگ تھی تب بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز نہیں تھے اور نہ ہی کیپسٹی چارجز کا پھندا عوام کے گلے میں تھا۔ اور تب گھروں میں گیس بہرحال پوری ہوتی تھی بھلے ہی سی این جی بند کر کے پوری کی جاتی تھی۔ مگر اب گھروں کے لئے بھی گیس نہیں جو مہنگی LPG سے+

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

سے عوام کو اپنی ضرورت پوری کرنی پڑ رہی ہے۔ LPG کے سرکاری نرخ 300 کے لگ بھگ والی LPG بڑے شہروں میں بھی 460 روپے کلو سے کم ملنے کا تصور بھی نہیں ہے اور اوپر سے جو LPG ملتی ہے اس میں کسی سستی اور خطرناک گیس کی ملاوٹ دھڑا دھڑ کی جا رہی ہے جس کا شعلہ باقاعدہ دھواں دے کر برتن بھی کالے+

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

کرتا ہے اور یہ ملاوٹ شدہ ایل پی جی گیس زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ اس سارے عذاب میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں ہے قصور ان خبیث صفت حکمرانوں کا ہے جنہوں نے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے نام پر مہنگی بجلی پیدا کرنے والے آئی پی پیز اپنے فائدے والے معاہدوں کے ساتھ لگوائے۔

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

حقیقی آزادی والے بھی یاد رکھیں کہ جب ان کے ٹھیکیدار نیا پاکستان بنا رہے تھے تب پرانے پاکستان والوں کے کئے ہوئے آئی پی پیز کے پرانے اور ظالمانہ معاہدوں کی مدت پوری ہوئی تھی تو پاکستانی عوام کی کچھ تو جان چھوٹ سکتی تھی مگر انھوں نے وہ معاہدے نئے کر دیئے یہ سب اشرافیہ کے وفادار ہیں

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

بہت ہی آسان مثال یہ ہی سمجھ لیں چینی چوری کی جیسی واردات اس حکومت کے دور میں ہوئی ویسی چینی چوری کی واردات نیا پاکستان بنانے والوں کے دور میں ہوئی۔ ایک اور واردات جو کسانوں کی گندم اور غریب کے آٹے کے ساتھ ہوئی وہ یہ تھی کہ نیا پاکستان بنانے والوں کے دور میں گندم سمگل کر کے +

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

مال بنایا جاتا رہا اب کہ گندم امپورٹ کر کے کسانوں کا گلا کاٹنے والوں نے گندم سمگل تو نہیں ہونے دی مگر گندم کی قیمت اس لئے کم کی تا کہ وہ تندروں پر وہ سستی روٹی فروخت کروا کر اپنی پبلسٹی کروا سکیں۔ پبلسٹی کا اتنا جنون ہے کہ جب گذشتہ ہفتے پٹرولیم مصنوعات سستی کرنا پڑیں تو +

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

پٹرول صرف 12 روپے لٹر سستا کیا تا کہ انھوں نے موٹر سائیکل سواروں کے لئے 100 روپے لٹر سبسڈی والی سکیم شروع کر رکھی ہے اس کو چلایا جا سکے اور اس پر اپنے آپ کو حاتم طائی کے وارث ثابت کیا جا سکے۔ بھلے ہی 100 روپیہ سبسڈی لینے والے موٹر سائیکلوں والے 1 فیصد ہوں 99 فیصد کی جیبوں سے +

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

ہر لٹر پٹرول پر 100 روپیہ زیادہ نکال کر صرف 1 فیصد کی جیبوں میں 20 لٹر ماہوار پر 100 روپیہ فی لٹر سبسڈی وہ بھی اپنی فوٹوز والے اشتہاروں کے ساتھ دینا کہاں سے گھاٹے کا سودا ہے؟ اسی طرح کی شعبدہ بازیوں اور شوبازیوں کی بدولت ہی تو اپنے خوشامدیوں کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ 69 فیصد+

𝙎𝙝𝙖𝙛𝙞𝙦𝙪𝙚 𝘼𝙠𝙝𝙩𝙖𝙧 (@shafiquearajput) 's Twitter Profile Photo

خوشی سے نہال ہے اور پنجاب سرکار کے اقبال کی بلندی کی طلبگار ہے۔ جیسے عوام کو تین سو یونٹ بجلی اپنے جلسوں میں کئے گئے وعدوں کے مطابق مفت مل رہی ہے۔ جیسے پنجاب کے عوام کو مشکل سے نکال کر خوشحال کر دیا ہے۔ خوش فہمیاں تو پیدا ہو ہی جاتی ہیں جب خوشامدی دستیاب ہوں۔