History may conclude imran’s greatest failure as to overestimate his followers! He wants them now to march in millions against his prescribed ظلمُ کا نظامُ — but these bunch of cowards are sitting at home, trying to bring REVOLUTION ON TWITTER They ratted out their leader!
Celebrating Eid al-Adha and marking the end of the Hajj with friends – new and old – this afternoon. To Muslims who are doing the same across the country and around the world: Eid Mubarak!
یہ ڈنمارک کا وزیراعظم اور ساتھ فرانس کا صدر ہے جب یہ دورے پر ڈنمارک آیا تو شہر میں سائیکل پر پھر رہا کوئی روٹ نہی لگا کوئی ٹریفک نہی روکی گی جہاں اشارہ بند تھا مہمان صدر نے سڑک پر ٹریفک کا ویٹ کیا
دوسری طرف پاکستان ہے ایک کمشنر بھی سترہ کروڑ کی Lexus LX570 پر پھرتا ہے
ڈنمارک
میرا موضوع یہ نہیں کہ اسلام کی درست تعبیر کیا ہے، کہاں نافذ ہے، کیسے نافذ کی جا سکتی ہے، موضوع یہ ہے کہ سوالات کے تسلی بخش جوابا ت کیوں نہیں ملتے، کہاں ہیں وہ لوگ جو علم الکلام کے ماہر تھے ، کہاں گئے وہ عالم دین جن کا بیان سن کر دل مطمئن ہوجاتا تھا اور۔۔۔۔
jang.com.pk/news/1314322
بھائی وائرل انفیکشن بحرحال ختم ہو جاتا ہے۔ پاکستان کا یہ وقت بھی گزر جائے گا اور یقین کر لیجیے کہ آپ اور آپ کو ہمنواؤں کو تاریخ کوڑے دان کے علاوہ کہیں یاد نہیں رکھے گی۔
عوامیت پسندی اور نفرت کی جو آگ ریاست نے خود لگائی تھی، آپ اس کا شاخسانہ ضرور ہیں، مگر یہ آگ بھی اپنی طبعی موت
پاکستان میں یوٹیوب اور سوشل میڈیا انکم پر پابندی یا نگرانی کا نظام فعال کر کے کر کے بھی فیک نیوز کا پھیلاؤ روکا جا سکتا ہے۔ کئی افراد ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارم پروپیگنڈا، فیک نیوز اور نفرت انگیزی کے پھیلاؤ میں صرف اس لیے استعمال کر رہے ہیں کہ اس سے پیسے بنائے جا سکیں، اس
طاقت کے زور پر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرنا بہت آسان ہے لیکن قرآن مجید جھوٹ بولنے والوں پر لعنت بھیجتا ہے ہم میں سے کوئی بھی صادق اور امین نہیں لیکن کم از کم ہمیں جھوٹ کو تسلیم نہیں کرنا چاہئیے اور جھوٹوں کا سہولت کار نہیں بننا چاہئیے اللّٰہ ہم سب کو ہدائت دے آمین
پاکستان کی حالیہ سیاسی صورتحال اور انتخابات کا جائزہ لیتے ہوئے جاوید غامدی صاحب نے تحریک انصاف اور اس سے وابستہ جوانوں کے ولولے اور استقامت پر بنیادی سوالات اُٹھائے ہیں، ذرا کھلے دماغ سے غور سے سنیں✌🏽
سات سو سال قبل لکھی گئی ابن خلدون کی تحریر گویا مستقبل کے تصور کا منظر نامہ ہے:
“مغلوب قوم کو ہمیشہ فاتح کی تقلید کا شوق ہوتا ہے، فاتح کی وردی اور وردی پر سجے تمغے، طلائی بٹن اور بٹنوں پر کنندہ طاقت کی علامات، اعزازی نشانات، اس کی نشست و برخاست کے طور طریقے، اس کے تمام حالات،
یوں ہی یاددہانی کے لیے کہ اس ملک پر یہ آدمی وزیراعظم نصب کیا گیا تھا، جس کی دماغی سطح ایک تھڑے بازی کی تھی اور اسے پچیس کروڑ انسانوں کی قسمت اور مستقبل سونپا گیا تھا۔
اس کے گھر اس کی والدہ کی تعزیت کیلیے بےنظیر بھٹو آ رہی تھیں۔ پریشانی یہ تھی کہ کامریڈ جام ساقی کے گھر کوئی صوفہ نہ تھا۔ میں نے پوچھا، کرسی تو ہوگی؟
کہا، بس ایک پرانا پلنگ ہے۔
لمبی ٹوٹی پھوٹی گلی سے گزر کر بےنظیر بھٹو اپنے جیالوں کے لشکر کے ساتھ کامریڈ کی بیٹھک میں داخل ہوئیں۔ اور
ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام
"طارانوس” کہا جاتا ہے۔ طارانوس ابلیس سے ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پہ موجود تھا۔ طارانوس کی نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان پہ موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نہ بیماری لگتی تھی البتہ یہ چونکہ آتشی مخلوق تھی تو سرکشی بدرجہ اتم موجود تھی۔