Sarmad Azad (@faqirdas) 's Twitter Profile
Sarmad Azad

@faqirdas

Counselor /Psychologist Ojha Institute of Chest Diseases Karachi

ID: 861549116

calendar_today04-10-2012 15:09:22

754 Tweet

104 Followers

522 Following

Soulat Pasha (@soulat_pasha) 's Twitter Profile Photo

اقبال احمد انڈیا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں ان کے والد زمین کے جھگڑے میں ان کی آنکھوں کے سامنے قتل ہو گئے۔ 1947 کی ہجرت میں وہ اپنے بھائی کے ساتھ بہار سے پیدل لاہور پہنچے۔ ایف سی کالج میں داخلہ لیا، اکنامکس میں ڈگری حاصل کی اور آگے چل کر اسکالرشپ پر امریکا کے

اقبال احمد انڈیا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں ان کے والد زمین کے جھگڑے میں ان کی آنکھوں کے سامنے قتل ہو گئے۔ 1947 کی ہجرت میں وہ اپنے بھائی کے ساتھ بہار سے پیدل لاہور پہنچے۔ ایف سی کالج میں داخلہ لیا، اکنامکس میں ڈگری حاصل کی اور آگے چل کر اسکالرشپ پر امریکا کے
Soulat Pasha (@soulat_pasha) 's Twitter Profile Photo

95 سال کی عمر میں، عالمی شہرت یافتہ ماہرِ لسانیات، فلسفی، اور سیاسی مفکر نوم چومسکی اب اس طرح بول یا لکھ نہیں سکتے جیسے وہ پہلے کرتے تھے۔ عمر اور بیماری نے اس کی آواز کو خاموش کر دیا ہے۔ لیکن کئی دہائیوں تک، چومسکی کے الفاظ کبھی خاموش نہ ہوئے۔ اس نے زندگی بھر طاقتوروں کو چیلنج

95 سال کی عمر میں،  عالمی شہرت یافتہ ماہرِ لسانیات، فلسفی، اور سیاسی مفکر نوم چومسکی اب اس طرح بول یا لکھ نہیں سکتے جیسے وہ پہلے کرتے تھے۔ عمر اور بیماری نے اس کی آواز کو خاموش کر دیا ہے۔
لیکن کئی دہائیوں تک، چومسکی کے الفاظ کبھی خاموش نہ ہوئے۔ اس نے زندگی بھر طاقتوروں کو چیلنج
Soulat Pasha (@soulat_pasha) 's Twitter Profile Photo

ہم صوفی لوگ ہیں ہم سندھی لوگ ہیں امن و امان چاہتے ہیں نہ ہی جھگڑے نہ ہی جنگیں نہ ہی شیطان چاہتے ہیں نہ ہی ہندو نہ ہی مومن نہ میری ذات ہے کوئی میں جو ہوں سو ہوں تیرا احسان چاہتے ہیں نہ ہی جھگڑے نہ ہی جنگیں نہ ہی شیطان چاہتے ہیں ہم صوفی لوگ ہیں ہم سندھی لوگ ہیں امن و امان چاہتے ہیں

Sayed Zain Shah (@sayed_zainshah) 's Twitter Profile Photo

ہمارے کچھ لوٹے گئے حقوق ہیں، جو آئین میں ترمیم کرکے ہم سے چھین لیے گئے ہیں۔ اگر ہم بااثر ہوں گے، یہاں کے نمائندے ہوں گے (کسی بھی شکل میں)، چاہے اسمبلی میں نمائندے بن کر جائیں یا — اگر ہمیں اسمبلی میں آنے نہ دیا جائے، تب بھی جب کروڑوں لوگ اپنا حق مانگیں گے اور ہم پر اعتماد کریں گے

𝕏 عبدالوحيد (@a_w_723) 's Twitter Profile Photo

ملازم سٺ سال گورنمينٽ کي ارپي ٿو ،جڏهن رٽائر ٿي ٿو تہ اُنهيءَ جي اُميد رٽائرمينٽ جِي پينشن ھوندي آھي ڇو تہ اُنهيءَ کان پوءِ ان جي جسم ۾ توفيق ناھي جو ٻيو ڪو ڌنڌو ڪري سگهي. گورنمينٽ اھا پينشن ڪٽي ملازم کي پنڻُ تي مجبور نہ ڪري. #JusticeForSindhEmployees

Gul zaman Jamali (@gulzaman141) 's Twitter Profile Photo

سنڌ جي ملازمن جو آواز دنيا جي ڪنڊ ڪڙڇ ۾ پھچائڻ لاءِ ٽويٽر ايڪس سروس تي ساٿ ڏيو... تالابندي جي هن ٻئي مرحلي ۾ اليڪٽرانڪ، پرنٽ ميڊيا سان گڏوگڏ سوشل ميڊيا تي وڌيڪ فوڪس ڪريو خصوصي طور ايڪس ٽوئيٽر.. #JusticeForSindhEmployees

Sayed Zain Shah (@sayed_zainshah) 's Twitter Profile Photo

ہم آل سندھ ایمپلائز الائنس کے تمام مطالبات اور احتجاج کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ پنشن میں کٹوتی، ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس سے محرومی اور گروپ انشورنس جیسے بنیادی حقوق نہ دینا ملازمین کے ساتھ سراسر زیادتی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو کا حالیہ بیان دھوکہ

Danish Balani (@danishbalani) 's Twitter Profile Photo

ساٿيو ٽوئِٽر ايڪس تي ملازمن جي حقن لاءِ احتجاج جو ٽرينڊ هلندڙ آهي. ساٿ ڏيو. #JusticeForSindhEmployees #YoungTeachersAlliance #SEA

ساٿيو
ٽوئِٽر ايڪس تي ملازمن جي حقن لاءِ احتجاج جو ٽرينڊ هلندڙ آهي. ساٿ ڏيو.

#JusticeForSindhEmployees
#YoungTeachersAlliance #SEA
Sarmad Azad (@faqirdas) 's Twitter Profile Photo

انڌي ٻوڙي گونگي سرڪار.. ڪوبه احتجاج ڪونه پيو ٿئي، ڪوبه تالابندي ناهي، ڪوبه پينشن ڪٽوتي ڪونه پئي ٿئي، ڪوبه ليٽر جاري ناهي ٿيو.. *ٺڳي جو ٺاھ، مراد علي شاهه* #JusticeForSindhEmployees #E_4_Education

انڌي ٻوڙي گونگي سرڪار..
ڪوبه احتجاج ڪونه پيو ٿئي، ڪوبه تالابندي ناهي، ڪوبه پينشن ڪٽوتي ڪونه پئي ٿئي، ڪوبه ليٽر جاري ناهي ٿيو..
*ٺڳي جو ٺاھ، مراد علي شاهه*
#JusticeForSindhEmployees #E_4_Education
Soulat Pasha (@soulat_pasha) 's Twitter Profile Photo

1936 میں، جب بڑی کساد بازاری چل رہی تھی، جان اسٹین بیک نے کچھ ایسا کیا جو عام لکھاری کبھی نہیں کرتے ۔ وہ ایک جعلی نام کے تحت ایک مہاجر کیمپ میں خفیہ طور پر رہنے چلے گئے۔ وہ یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ غریب کسانوں کی زندگی کیسی ہوتی ہے جنہوں نے سب کچھ مٹی اور خشک سالی کی وجہ سے کھو

1936 میں، جب بڑی کساد بازاری چل رہی تھی، جان اسٹین بیک نے کچھ ایسا کیا جو عام لکھاری کبھی نہیں کرتے ۔ وہ ایک جعلی نام کے تحت ایک مہاجر کیمپ میں خفیہ طور پر رہنے چلے گئے۔ 
وہ یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ غریب کسانوں کی زندگی کیسی ہوتی ہے جنہوں نے سب کچھ مٹی اور خشک سالی کی وجہ سے کھو