امریکہ یا کینیڈا میں بینک اکاونٹ کھلوانا محض دس سے پندرہ منٹ کا کام ہے، اکاؤنٹ کھلنے کے بعد کاؤنٹر چھوڑنے سے پہلے بینک کارڈ آپکو نہ صرف تھما دیا جاتا ہے بلکہ اے ٹی ایم تک جا کر اسکے استعمال کی تربیت بھی دے دی جاتی ہے۔
وطن عزیز میں بینک اکاؤنٹ کھلوانا ہفتوں کا کام اور بینک کارڈ
محترم چند ماہ پہلے پنجاب کی تقسیمِ کے لیے جواز دے رہے تھے. لیکن وہی چھڑی اپنی دھرتی پر اٹھی ہے تو تقسیم نہ کرنے کے لیے جواز دے رہے ہیں.
ایسے کیسے کر لیتے ہیں؟
یاد رکھیو پنجاب دی تقسیم دا راہ باقیاں دی تقسیمِ تو لنگ کے ای آوے گا.
کرو ست بسم اللہ.
پنجاب چہ سیانے بابے کہندے ہندے وا کہ وکیلاں نو تے کراۓ تے گھر وی نئیں دینا چاہیدا ، خان صاحب نے پوری جماعت پھڑا دتی سی.
ہنڑ جیہڑا اگلہ فیصلہ کیتا ،اوہ وی دن چہ تارے وکھان آلا وا.
پی پی پی سندھ میں نئے صوبے کی بات پر مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں کے نعرے لگاتی ہے.
لیکن پنجاب میں نئے صوبے کی وکالت کرتی ہے. جتنی بھی توجیہات یہ پنجاب کی تقسیمِ کے لیے دیتے ہیں، وہ ساری سندھ میں بھی موجود ہے. لیکن وہاں رویہ الٹ ہوجاتا.
اسی منافقت کی بدولت پنجاب سے صفایا کروایا ہے.
کالج دور میں ایک کتاب پڑھی تھی. لکھاری شاید کوئی ریٹائرڈ پولیس آفیسر تھا. کتاب کا نام اور پلاٹ بھول گیا. لیکن ایک بات دماغ میں بیٹھ گئی تھی. پنجاب میں جب کیکر کے پھول کھلتے ہیں تو سیانے بزرگ ڈرتے ہیں کیونکہ یہ بغاوت کےموسم کی نشانی ہے.
جب بھی یہ پھول دیکھتا ہوں یہ بات یاد آ جاتی.
خان صاحب کے دور میں جب یہ پراجیکٹ لانچ ہوا تھا، تب سے یہ سوال وہی موجود ہے. اس کے بعد میاں صاحب نے اس پراجیکٹ کا دورہ کیا.
پھر یہی پوچھنا ہے کہ کل کو جب یہاں لوگ آباد ہوگئے اور سیلاب آ گیا. تو کون ذمہ دار ہوگا. اصل مالک یا ایسے پراجیکٹس کی قصیدہ گوئی کرنے والے لیڈران.
75 سال گزر گئے، ہم اب بھی برطانوی دور کے بنائے پانی کے نظام پر انحصار کر رہے ہیں.اپگریڈ کی ضرورت ہے.
مون سون میں سیلاب آنا فطری ہے، لیکن بہتر پالیسیز سے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں.
سیلابی پانی کے لیے ڈیم نہیں، جھیلیں اور، سیلابی نالے، بیراج بنتے ہیں. دریاؤں کا راستہ تنگ نہ کریں.
پاکستانی میڈیا نے یہ ایک لائن سیکھ لی ہے کہ انڈیا نے آبی جارجیت کرتے ہوئے پانی چھوڑ دیا. ہر سال اس کی پیپنی بجاتے ہیں.
مون سون میں بارشوں سے سیلابی کیفیت بنتی ہے. ان کے اپنے اضلاع میں بنی ہوئی ہے. وہ کیا اس پانی کو پی لے؟
اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئے یہ راگنی بجائی جاتی ہے.
ایک سنجیدہ سوال ہے کہ آفیسر شاہی اور وزیروں وغیرہ کے فوٹو شوٹ سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟ کیا سیلاب وغیرہ انہیں دیکھ کر ڈر کر پیچھے چلے جاتے ہیں.
سہولیات کی یہ حالت ہے، بعض جگہ فوٹو شوٹ کے لیے وقتی کیمپ لگتا. وزٹ کے بعد محکمے والے وہ بھی اٹھا کر لے جاتے.
اس ویڈیو میں پنجاب کی مقامی رہتل کے شاندار اشارے ہیں:
آجا میرا پتر (یہ عورت کو مخاطب کیا گیا)
آ جاؤ باجی
مرد سے پہلے عورت کو ریسکیو کیا
عورت کو لائف جیکٹ دی
جو اس کے شوہر نے اسے پہنائی
عورت، مرد سے پہلے کشتی میں سوار ہوئی
مرد کی باری بعد میں آئی
ذمہ دار پدرسری ایسے ہی ہوتی ہے
یہ رویہ گھٹیا ترین ہے، چاہے پنجابیوں کی طرف سے آۓ.
پنجاب کےلیے یہ رویہ پہلے روز سے دیکھ رہے ہیں.لیکن کسی دانشور کے سر پر جوں نہیں رینگتی. اب اس بکواس کا جواب کچھ پنجاب سےبھی بکواس کی صورت دینےلگ گئے ہیں.
لیکن اس پر کچھ بظاہر نیوٹرل نظر آنے والے خفیہ نسل پرستوں کو ہیضہ ہوجاتا ہے.