Siمra (@simraashar) 's Twitter Profile
Siمra

@simraashar

From Overthinking to inner peace ✌️
Some days heavy, some days hopeful ✨

ID: 2013123601285988352

calendar_today19-01-2026 05:37:49

529 Tweet

283 Takipçi

0 Takip Edilen

Muhammad Fazeel 🤍🕊️ (@fazzi_x_) 's Twitter Profile Photo

انسان اور اُس کا خدا ہی جانتا ہے کہ اُس کے دل کے کس کونے میں کون سا درد بسا ہوا ہے۔

Siمra (@simraashar) 's Twitter Profile Photo

مَیں نے کہا، خراب ہوں، گردشِ چشمِ مَست سے اُس نے کہا کہ رقص کر، سارا جہاں خراب ہے

مَیں نے کہا، خراب ہوں، گردشِ چشمِ مَست سے
اُس نے کہا کہ رقص کر، سارا جہاں خراب ہے
Siمra (@simraashar) 's Twitter Profile Photo

فقط گُھٹن ہے، گُھٹن بَلا کی گیا ہُوا تھا، گئے دنوں میں 💔 محمد افراہیم افی

Siمra (@simraashar) 's Twitter Profile Photo

Ek to ye prhy likhy nhi.. dosra ye prhne ki koshish bhi nhi krty... Murshid ne thik kaha tha 🩷🩷 Free Imran khan #ImranKhanHealthEmemrgency

Siمra (@simraashar) 's Twitter Profile Photo

ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وراثت مظلوم کے حصے میں تسلی نہ دلاسہ 💔 #FreeImranKhan #ImranKhanHealthEmemrgency

ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وراثت 
مظلوم کے حصے میں تسلی نہ دلاسہ 💔
#FreeImranKhan 
#ImranKhanHealthEmemrgency
Siمra (@simraashar) 's Twitter Profile Photo

انہوں نے اُسے (عمران خان) کو زہر دے دیا ہے، یہ بہت پچھتائیں گے فلسـطینی صحافی موتسیم دلول #freeImrankhan

انہوں نے اُسے (عمران خان) کو زہر دے دیا ہے، یہ بہت پچھتائیں گے
فلسـطینی صحافی موتسیم دلول

#freeImrankhan
Siمra (@simraashar) 's Twitter Profile Photo

آسائشیں بہت تھیں , پر زندگی کو ہم نے اک دائرے میں لا کر اِک دَار پر گُزارا ۔ فیصل محمود

آسائشیں بہت تھیں , پر زندگی کو ہم نے
اک دائرے میں لا کر اِک دَار  پر گُزارا ۔

فیصل محمود
Siمra (@simraashar) 's Twitter Profile Photo

اُوکوں آکھیں سَاڈے اَندر تُوں اِی تُوں اے بِیا کونی بِیا کَہیں دِی جَا اِی کونی بِیا سَاڈا رَاہ اِی کونی

اُوکوں آکھیں
سَاڈے اَندر تُوں اِی تُوں اے 
بِیا کونی
بِیا کَہیں دِی جَا اِی کونی
بِیا سَاڈا رَاہ اِی کونی
Siمra (@simraashar) 's Twitter Profile Photo

پہلے تراشا کانچ سے اس نے میرا وجود پھر شہر بھر کے ہاتھ میں پتھر تھما دئیے

پہلے تراشا کانچ سے اس نے میرا وجود
پھر شہر بھر کے ہاتھ میں پتھر تھما دئیے