waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile
waliullah Maroof

@10waliullah

Social activist || writer || Youtuber

ID: 3140076943

calendar_today05-04-2015 08:39:36

663 Tweet

527 Takipçi

566 Takip Edilen

waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

آپ نے آصف کی تینتیس سال کی جدائی کے بعد اپنے والدین سے ملنے کی کہانی مختلف جگہوں پر دیکھی ہوگی۔ آصف کیسے اغوا ہوا، کہاں اور کس کس کے پاس رہا، ہمارے پاس یہ کیس کیسے آیا اور اللہ کے فضل سے کیسے حل ہوا، یہ ساری کہانی کو اس لنک میں مل جائے گی۔ waliullah.org/asif/

آپ نے آصف کی تینتیس سال کی جدائی کے  بعد اپنے والدین سے ملنے کی کہانی مختلف جگہوں پر دیکھی ہوگی۔ آصف کیسے اغوا ہوا، کہاں اور کس کس کے پاس رہا، ہمارے پاس یہ کیس کیسے آیا اور اللہ کے فضل سے کیسے حل ہوا، یہ ساری کہانی کو  اس لنک میں مل جائے گی۔ waliullah.org/asif/
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

محترم سفیر صاحب میں آپکا بےحد مشکور ہیں۔ آپ نے فورا ایکشن لیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ایک فرض شناس اور خدمتگار انسان ہیں۔ ورثاء اپنے بچے کی میت کے لئے بے تابی کے ساتھ منتظر ہیں ۔ ان سب کی نظریں آپ کی طرف تھیں آپ نے بروقت ایک دکھی خاندان کی فریاد سنی۔ Ambassador Mudassir

محترم سفیر صاحب میں آپکا بےحد مشکور ہیں۔
آپ نے فورا ایکشن لیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ایک فرض شناس اور خدمتگار انسان ہیں۔ 
ورثاء اپنے بچے کی میت کے لئے بے تابی کے ساتھ منتظر ہیں ۔ ان سب کی نظریں آپ کی طرف تھیں آپ نے بروقت ایک دکھی خاندان کی فریاد سنی۔
<a href="/AmbMudassir/">Ambassador Mudassir</a>
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

الحمدللہ سال 2014 میں وہاڑی کے قریب لڈن نامی گاؤں سے گم ہوجانے والے محمد شعبان کو آج ہارون آباد میں انکی والدہ اور بھائی سے ملوایا۔ مکمل ویڈیو یوٹیوب پر دیکھیں !! Channel Name : " Waliullah Maroof " #waliullahmaroof

الحمدللہ سال 2014 میں وہاڑی کے قریب لڈن نامی گاؤں سے گم ہوجانے والے محمد شعبان کو آج ہارون آباد میں انکی والدہ اور بھائی سے ملوایا۔
مکمل ویڈیو یوٹیوب پر دیکھیں !!
Channel Name : " Waliullah Maroof "  
#waliullahmaroof
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

ان شاءاللہ تعالی 6 فروری صبح سویرے ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اتریں گے۔ پاکستانی وقت کے مطابق 5 فروری رات 12 بجے کی فلائٹ ہے۔ اس کاروان میں ہم 9 لوگ ہونگے۔ ہماری ٹیم دو افراد پر مشتمل ہوگی اور چھ خواتین ہیں۔ ایک خاتون جنکی بینائی کا مسئلہ ہے انکا بیٹا ساتھ ہوگا۔

ان شاءاللہ تعالی 6 فروری صبح سویرے ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اتریں گے۔
پاکستانی وقت کے مطابق 5 فروری رات 12 بجے کی فلائٹ ہے۔
اس کاروان میں ہم 9 لوگ ہونگے۔
ہماری ٹیم دو افراد پر مشتمل ہوگی اور چھ خواتین ہیں۔ ایک خاتون جنکی بینائی کا مسئلہ ہے انکا بیٹا ساتھ ہوگا۔
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

اس خاتون کا نام آمنہ ہے۔ آمنہ کی عمر 10 سال تھی جب بنگلادیش سے انسانی اسمگلروں کا شکار بن پر اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے خوبصورت رشتے سے جدا کی گئی تھی۔ آمنہ کا کہنا ہے کہ کسی نے بچیوں کو کہیں ملازمت دلوانے کا کہا تھا۔ ہم سب خوش ہوکر جمع ہوئیں۔ ہمیں کھانا کھلایا گیا۔ کھانے کے

اس خاتون کا نام آمنہ ہے۔
آمنہ کی عمر 10 سال تھی جب بنگلادیش سے انسانی اسمگلروں کا شکار بن پر اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے خوبصورت رشتے سے جدا کی گئی تھی۔
آمنہ کا کہنا ہے کہ کسی نے بچیوں کو کہیں ملازمت دلوانے کا کہا تھا۔ ہم سب خوش ہوکر جمع ہوئیں۔ ہمیں کھانا کھلایا گیا۔
کھانے کے
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

ان سے ملئے! اس ماں جی کا نام رابعہ بی بی ہے۔رابعہ جب 12 سال کی تھی والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا۔ ایک روز ایک قریبی رشتےدار خاتون نے رابعہ کو بلاکر کہیں ساتھ جانے کا کہا۔ رابعہ خوشی خوشی ساتھ چلی گئی۔ ایک مقام پر پہنچ کر کسی گھر میں دونوں داخل ہوئیں۔ اور رابعہ وہاں قید ہوگئی۔

ان سے ملئے!
اس ماں جی کا نام رابعہ بی بی ہے۔رابعہ جب 12 سال کی تھی والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا۔
ایک روز ایک قریبی رشتےدار خاتون نے رابعہ کو بلاکر کہیں ساتھ جانے کا کہا۔ رابعہ خوشی خوشی ساتھ چلی گئی۔
ایک مقام پر پہنچ کر کسی گھر میں دونوں داخل ہوئیں۔ اور رابعہ وہاں قید ہوگئی۔
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

پانچ دہائیوں بعد قدم رکھتے ہی خواتین نے اپنی سرزمین کو بوسہ دیا۔ جنہیں بہیمانہ ظلم کا نشانہ بناکر اغو٭اء کرکے مختلف دشوار راستوں سے لیجایا گیا تھا۔ آج وہ باعزت طریقے سے ہوائی جہاز پر اپنے وطن پہنچیں۔ ان شاء اللہ تفصیلی ویڈیو جلد ہمارے یوٹیوب چینل پر دیکھ سکیں گے

waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

ڈھاکہ ائیرپورٹ پر آج بہن بھائی کی برسوں بعد ملاقات ہوئی یہ منظر دیکھ کر میرا بھی دل پھوٹ پھوٹ کر رونے کررہا تھا لیکن بمشکل قابو پایا۔ مکمل ویڈیو یوٹیوب پر اپلوڈ ہوچکی ہے دیکھ سکتے ہیں۔ #waliullahmaroof #bangladesh #pakistan #dhaka

waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

ہم جب ڈھاکہ ائیرپورٹ پر امیگریشن سے ہوکر نکلنے لگے تو اردگرد سکیورٹی کے اہلکار قریب آتے جاتے دیکھتے اور چلے جاتے۔ اور کچھ پوچھ رہے تھے آپ لوگ پاکستان سے آئے ہیں؟ میں نے کہا جی! تو بہت اچھے سے ملے۔ ایک نوجوان فوٹو میں نظر آنے والی وردی میں ملبوس پوچھ کر آگے کی طرف تیزی سے نکل

ہم جب ڈھاکہ ائیرپورٹ پر امیگریشن سے ہوکر نکلنے لگے تو اردگرد  سکیورٹی کے اہلکار قریب آتے جاتے دیکھتے اور چلے جاتے۔ اور کچھ  پوچھ رہے تھے آپ لوگ پاکستان سے آئے ہیں؟ میں نے کہا جی! تو بہت اچھے سے ملے۔ ایک نوجوان فوٹو میں نظر آنے والی وردی میں ملبوس پوچھ کر آگے کی طرف تیزی سے نکل
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

زیر نظر تصویر میں موجود لڑکے کا نام ثقلین حیدر ہے۔ ثقلین چک نمبر 88/15L تحصیل میاں چنوں کا رہائشی تھا۔سال 2006 میں نہم جماعت میں زیر تعلیم تھا۔ ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہی تھا محض سولہ سال عمر تھی۔والدین نے ثقلین کے لئے بہت سارے خواب اپنے آنکھوں میں سجائے رکھے تھے۔ بہن

زیر نظر تصویر میں موجود لڑکے کا نام ثقلین حیدر ہے۔

ثقلین چک نمبر 88/15L تحصیل میاں چنوں کا رہائشی تھا۔سال 2006 میں نہم جماعت میں زیر تعلیم تھا۔
ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہی تھا محض سولہ سال عمر تھی۔والدین نے ثقلین کے لئے بہت سارے خواب اپنے آنکھوں میں سجائے رکھے تھے۔
بہن
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

بیس اکتوبر دوہزار پچیس کو ہم نے ایم آئی خان کی فیملی پر گزری قیامت کی داستان لکھی تھی ۔ پہلے سابقہ تحریری معمولی ایڈیٹنگ کے ساتھ پڑھیں: “”بنگلادیش بننے سے قبل وہاں ایک ق@تل عام ہوا تھا ظالموں نے لاتعداد انسانی جانیں نہایت بےدردی کے ساتھ لی تھیں۔ وہیں پاکستان ریلوے میں ملازم

بیس اکتوبر دوہزار پچیس کو ہم نے ایم آئی خان کی فیملی پر گزری قیامت کی داستان لکھی تھی ۔ 
پہلے سابقہ تحریری  معمولی ایڈیٹنگ کے ساتھ پڑھیں:

“”بنگلادیش بننے سے قبل وہاں ایک ق@تل عام ہوا تھا
ظالموں نے لاتعداد انسانی جانیں نہایت بےدردی کے ساتھ لی تھیں۔
وہیں پاکستان ریلوے میں ملازم
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

اس بچے کا نام زوہان ہے اور والد کا نام حمزہ ہارون ہے۔ زوہان بروز پیر بوقت ظہر لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن سے اچانک لاپتہ ہوگیا تھا۔ گھر میں قیامت کا سماں تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ایک شخص بچے کو بائک پر لیجارہا تھا اور ہیلمٹ بھی سر پر پہن رکھا تھا۔ لوگوں سے کچھ پوچھتا

اس بچے کا نام زوہان ہے اور والد کا نام حمزہ ہارون ہے۔
زوہان بروز پیر بوقت ظہر لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن سے اچانک لاپتہ ہوگیا تھا۔
گھر میں قیامت کا سماں تھا۔ 
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ایک شخص بچے کو بائک پر لیجارہا تھا اور ہیلمٹ بھی سر پر پہن رکھا تھا۔
لوگوں سے کچھ پوچھتا
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

کل ہم ڈھاکہ کے علاقے محمد پور میں قائم جینوا کیمپ گئے۔ آپ سب کو معلوم ہے یہاں 1971 میں بہاری پاکستانی رہ گئے تھے اور حکومت کی طرف سے پاکستان بھجوانے کے مختصر انتظار میں تھے اور اس انتظار میں تیسری نسل بھی آچکی ہے۔ آج بھی اس کیمپ میں بہاری “آباد ہیں” کہنا مناسب نہیں ہوگا “موجود

کل ہم ڈھاکہ کے علاقے محمد پور میں قائم جینوا کیمپ گئے۔
آپ سب کو معلوم ہے یہاں 1971 میں بہاری پاکستانی رہ گئے تھے اور حکومت کی طرف سے پاکستان بھجوانے کے مختصر انتظار میں تھے اور اس انتظار میں تیسری نسل بھی آچکی ہے۔
آج بھی اس کیمپ میں بہاری “آباد ہیں” کہنا مناسب نہیں ہوگا “موجود
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

ایک بہن کی فریاد۔۔!! “میرا نام نور فاطمہ ہے، میں 29 نومبر 1995 میں پیدا ہوئی تھی۔ میری جائے پیدائش فاطمہ میمیوریل اسپتال لاہور ہے۔ مجھے بتایا جاتا ہے کہ میں جب پیدا ہوئی سانس کی تکلیف میں مبتلا تھی دو ہفتوں تک ایڈمٹ رہی، کوئی لینے نہیں آیا۔ مذکورہ اسپتال میں میرے لےپالک والدین

ایک بہن کی فریاد۔۔!!

“میرا نام نور فاطمہ ہے، میں 29 نومبر 1995 میں پیدا ہوئی تھی۔  میری جائے پیدائش فاطمہ میمیوریل اسپتال لاہور ہے۔ 
مجھے بتایا جاتا ہے کہ میں جب پیدا ہوئی سانس کی تکلیف میں مبتلا تھی دو ہفتوں تک ایڈمٹ رہی، کوئی لینے نہیں آیا۔ مذکورہ اسپتال میں میرے لےپالک والدین
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

یہ بچی اپنا نام نور فاطمہ بتاتی ہے- نور فاطمہ دسمبر 2025 کو حیدرآباد پولیس کو ملی تھی۔ بچی اپنا نام نور فاطمہ بتاتی ہے۔ خاندان کے دیگر افراد کا نام نہیں بتاتی۔ اس بچی نے اپنا پتہ ملتان شجاع آباد بھی بتایا ہے ملتان کے دوست زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ نور فاطمہ کے ماں باپ مل

waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

تصویر میں نظر آنے والی خاتون کا نام امونونا ہے(دوسرا نام عاصمیہ ہے)۔ امونونا کا تعلق سری لنکا سے تھا۔ بیس سال کی عمر میں سال 1975 کو سری لنکا سے عرب امارات ملازمت کے لئے گئی۔ امارات میں دوران ملازمت امونونا کا ایک پاکستانی شخص سے دوستی ہوئی اور دوستی شادی میں بدل گئی۔ شادی کے

تصویر میں نظر آنے والی خاتون کا نام امونونا ہے(دوسرا نام عاصمیہ ہے)۔ 
امونونا کا تعلق سری لنکا سے تھا۔ بیس سال کی عمر میں سال 1975 کو سری لنکا سے عرب امارات ملازمت کے لئے گئی۔
امارات میں دوران ملازمت امونونا کا ایک پاکستانی شخص سے دوستی ہوئی اور دوستی شادی میں بدل گئی۔
شادی کے
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

الحمدللہ سری لنکن خاتون کی پوسٹ لگائی جنہوں نے پاکستانی سے دبئی میں شادی کی تھی۔ امونونا کے خاندان سے رابطہ ہوگیا۔ انکی بیٹی ثانیہ سے ابھی میری بات ہوئی۔ امونونا بہت پہلے فوت ہوچکی ہے۔ ثانیہ بہت چھوٹی تھی ڈیلیوری کے دوران ماں فوت ہوگئی تھی۔ ثانیہ اکیلی بہن ہے سگی ماں سے کوئی

الحمدللہ
سری لنکن خاتون کی پوسٹ لگائی جنہوں نے پاکستانی سے دبئی میں شادی کی تھی۔ 
امونونا کے خاندان سے رابطہ ہوگیا۔
انکی بیٹی ثانیہ سے ابھی میری بات ہوئی۔
امونونا بہت پہلے فوت ہوچکی ہے۔ ثانیہ بہت چھوٹی تھی ڈیلیوری کے دوران ماں فوت ہوگئی تھی۔ ثانیہ اکیلی بہن ہے سگی ماں سے کوئی
waliullah Maroof (@10waliullah) 's Twitter Profile Photo

الحمدللہ ملتان کی نور فاطمہ دسمبر2025 کو گھر کے باہر سے گم ہوئی تھی۔ نجانے بچی کیسے سندھ کے شہیر حیدرآباد پہنچ گئی۔ پولیس نے سندھ چائلڈ پروٹیکشن کے شیلٹر کراچی ملیر منتقل کردیا۔ نور فاطمہ اپنی معلومات بتانے سے قاصر تھی۔ گزشتہ روز چائلڈ پروٹیکشن کی انچارج میڈم عظمیٰ صاحبہ نے